explore nagar valley

Best Quote from a reknowned Blogger to a hotle owner in Nagar Valley 2017 (Muzammil toori)

نگر کے ایک ہوٹل کی کہانی ایک سیاح کی زبانی
(مزمل)




گلگت سے ہنزہ جاتے ہوئے تقریبان 45 منٹ یا ایک گھنٹے کی مسافت پر روڈ کے اوپر ہئ چھوٹا سے بازار آتا ہے اور اس پاس گاوں ہیں جس کو نگر کہتے ہیں.2017 اکتوبر کی بات ہے جب ہم پسو کے لئے صبح سویرے گلگت سے نکلے تو ناشتہ نگر کے پاس روڈ کے اوپر ہی ایک چھوٹی سی دکان تھی اور ایک نوجوان اس میں کام کر رہا تھا ۔ سردی تھی ہم نے یخنی کی دیگ دیکر اس کے پاس بریک لگائی اور سلام کے بعد اس سے پوچھا ناشتہ ملے گا ۔۔ اس نے کہا جی بلکل ملے گا بہر حال انڈے اور پراٹے بنوانے سے پہلے ہم نے ایک ایک باول یخنی پی جو کے پہاڑی بکرے کے گوشت میں بنائی تھی اس کے بعد 2 آملیٹ 2 پراٹے اور 2 کپ چائی پی۔۔ انسان ناشتہ کرنے کے بعد حسب معمول بل کے بارے میں سوچتا ہے جیسا کہ ناران میں ہمیں چونا لگ چکا تھا اور مری میں تو لگتا رہتا ہے لیکن جب اس شخص نے 120 روپے بل بولا تو میں چونک گیا ۔۔ ایک بار ہھر سے پھوچا تو کہنے لگا 120 روپے۔۔




بہر حال خوشی خوشی سے دے دئے۔۔ دو دن بعد جب ہم واپس آ رہے تھے تو سوچھا کیوں نہ اسی ہوٹل میں دوبارہ ناشتہ کیا جائے۔۔۔ صبح لگ بگ 11 بجے اسی ہوٹل آ کر رکھ گئے اس نے فوران پہچان لیا۔۔ آڈر دینے سے پہلے اس شخص نے کہا بھائی میں آپ سے معزرت چاہتا ہوں دو دن پہلے آپ سے بل لیا تھا تو آپ سے 10 روپے اضافی لے لئے تھے ۔۔ میں نے وہ پیسے اس صدقے کے ڈبے میں ڈال دئے ہیں آگر آپ بخش دیں ۔۔ میں اس کی یہ بات سن کر حیران رہ گیا کہ واقعی دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں ۔۔ ویسے تو بلتستان کے سب ہی لوگ بہت مہمان نواز اور اچھے ہیں اور اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن یہاں کے لوگ انتہائی سادہ اور نیک لوگ ہیں جو شہر سے زرا ہٹ کر رہتے ہیں ۔۔ اللہ تعالی سب لوگوں کو مہمانوں اور مسافروں کے ساتھ اسی طرح برتاو کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔



admin

I am SR Haical. I am a Web Developer,Freelancer,Graphic designer,blogger,you-tuber and consultant travel. Further, i am fond to let the people aware of the latest trend techs to walk through.

2 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.