Shahid hussain

Business model of Nagar | Thoughtful Analysis by Shahid hussain

Black Mulberry Nagar valley
Black Mulberry Nagar valley





کاروبار
کاروبارکا بنیادی مقصد کسی بھی فرد کے پاس موجود وسائل کو بروئے کار لاتے ہوےزیادہ سے زیادہ منافع کمانا ہے تاکہ انسان اپنی اور اپنےاہل وعیال کی زندگی میں آسودگی لاسکے۔
کاروبار کی ابتدا بارٹر سسٹم سے ہوئی تھی اور آج ویرچوئل کرنسی کے ذریعے بزنس ہونے لگا ہے۔
ایسے دور میں گلگت بلتستان جہاں بیروزگاری بڑھتی جا رہی ہے، علاقے کی طرف ٹورسٹس کا ہجوم امڈ آیا ہے۔ اور ہماری بد بختی ملاحظہ فرمائیں کہ 95% لوگ اپنے لئیے روزگار پیدا کرنے کے بجائے تماشائی بنےہیں۔ ٹورزم کو صرف ہوٹلنگ تک محدود کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے ہنزہ نگر میں گھومنے کا اتفاق ہوا۔ ہماری مجموعی باالخصوص نگر کے علاقے میں کاروباری رویئے کو دیکھ کے افسوس ہوا۔
عجیب معاملہ ہے کم از کم مجھے نہیں سمجھ آیا کہ اس دور میں ہماری عقل کیوں کام نہیں کر رہی جب کہ ہم تعلیم یافتہ ہونے کے دعوے دار بھی ہیں۔



ذرا سوچیئے!!!!
ہمارے تمام ہوٹلوں میں چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے PEPSI کوک،جوس اور چائے وغیرہ بکتی ہیں۔ ارے بابا یہ وہ چیزیں ہیں جو ان ٹورسٹس کو پنجاب میں آسانی سے ملتے ہیں۔ یہاں آنے والے مہمانوں کو ہم لوکل پھلوں کے جوس بنا کے پیش کیوں نہیں کرتے؟؟؟؟ خوبانی کا چھموس، چیری کا جوس، سیب انار آنگور اوردیسی لسی وغیرہ۔ ذرا سوچئیے۔ PEPI کی ایک بوتل سے کتنا منافع ہم کما رہے ہیں۔ 50 کا بیچ دو تو آپ کو زیادہ سے زیادہ 5 روپے جبکہ چیری کا ایک گلاس جوس 50 کا بیچ دو تو پورے کے پورے 50 آپ کےاپنے ہیں۔

apricot shake nagar valley
Apricot shake nagar valley

پھلوں کی دکان پہ جاو وہاں تربوز، خربوز، آم، کیلے وغیرہ رکھے ہوے ہیں۔ ارے بابا یہ چیزیں تو ان ٹورسٹس کو ان کے دروازے پہ ملتی ییں۔ آپ چیری، خوبانی، توت،اخروٹ، بادام، گیری، انگور، سیب، ناشپاتی اور ان کی بائی پروڈکٹس بنا کے بیچ دیں۔ تربوز پہ اپکو فی کلو 10 روپے ملینگے جبکہ خوبانی پہ پورے کے پورے 50 آپکو ملینگے۔




علاوہ ان کے چیری کا جام، سیبک تھارن کا جام، خوبانی، سیب وغیرہ کا جام، سب سے بڑھ کے لوکل اور خالص شہد؛ گیری اور اخروٹ کا تیل، اونی ٹوپیاں، اونی پرسز، لکڑی کے برتن۔ الغرض بہت ساری چیزیں ہوتے وئے ہمارے پاس کچھ نہیں۔
ہنزہ میں وہاں کے لوگ پھر بھی کچھ کر رہے ہیں اگرچہ بہت کچھ اور بھی کر سکتے ہیں۔ایک مرتضے آباد گاوں میں روڈ کے کنارے 23 فروٹ سٹال لگے تھے جبکہ پورے نگر میں ہاتھوں میں پلیٹ لے کے بیچنے والے بچوں کو ملا کے ٹوٹل 7 سٹال تھے۔ کیا ہوتا ہے روڈ کے کنارے پانی کی ساتھ باغ کے سامنے ہی اپنے فروٹ کو اتار کے بیچ دو اور مہمان نوازی بھی کرو اور اپنے لئیےروزگار بھی پیدا کرو۔

چیری اس وقت 60 روپے کلو خرید کے پنجاب لے جا کے اوسطا 150 کا منڈی میں بیچ کے آتے ہیں جبکہ اسی ایک کلو سے کم از کم 30 گلاس جوس بنتا ہےآگر 50 روپے کا گلاس بھی بیچو تو آپکو 1500 روپے بنتے ہیں۔
پھر بھی کچھ نہیں تو چشمے کا تازہ اور صاف پانی ہی بیچ دو۔ کیا پانی نہیں بکتا۔ پنجاب سےپانی لا کے یہاں بیچا جاسکتا ہے تو کیوں ہمارے چشمے کا تازہ، صاف،ٹھنڈا اور قدرتی پانی نہیں بک سکتا۔
یا خدا !!!!
ہیں نا ہم عجیب لوگ۔
مختلف جڑی بوٹیاں بھری پڑی ہیں، قیمتی اور رنگ برنگی پتھروں کے ڈھیر پہ بیٹھ کے ہمارے پاس ٹورسٹس کو پیش کرنے کے لئیے کچھ نہیں سوائے پاپڑ، لیز، بسکٹ، چائے، جوس اور PEPSI کے۔ جن سے وہ تنگ آکر یہاں آئے ہوئے ہیں۔ اوپر سے پھر وہی چیزیں پیش کر کے ہم انھیں پریشان کر دیتے ہیں۔
اپنی چیزیں ہم پراپر سجا کے رکھتے نہیں جبکہ لیز PEPSI وغیرہ بڑی شان سے رکھ کے بیچتے ہیں۔ راکاپوشی کے دامن میں جہاں روزانہ ہزاروں لوگ رکتے ییں تھول اور غلمت دونوں جگہوں پر تل دھرنے کو جگہ نہیں لیکن لوکل لوگ تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ کوئی ایک سٹال نہیں جہاں چیری، خوبانی، آخروٹ، بادام،گیری جڑی بوٹیاں اور دیسی چھموس وغیرہ بکتے ہوں۔ جبکہ دوسری طرف باغات میں چیری سڑتے جا رہی ہے۔
سیاح باغات میں جا کر پھلوں کو برباد کر دیتے ہیں اور مالک لوک غم روزگار میں گھروں میں جھگڑے کر رہے ہیں۔ روڈ کے کنارے کے باغات میں مالکوں کو چاہیئے کہ خود بیٹھے، آنے والے مہمانوں کو ویلکم کہے، انکو باغ میں گھومنے پھرنے اور انجوئے کرنے دے اور پھل خود توڈ کے ان کو پیش کر کے قیمت وصول کر لے۔ یہ برائی نہیں۔ سیاح یہاں عبادت کے لئے نہیں آتے۔ وہ گھومنے پھرنے، مزے کرنے آتے ہیں، وہ خرچنے کا فیصلہ کر کے آتے ہیں۔ بس ہمیں سمجھ کے ان کے ساتھ اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آتے ہوے اپنے زرعی، قدرتی، اور معدنی وسائل سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ کاروبارصرف دوسروں کی چیزیں بیچنے کا نام نہیں خود کے پاس موجود وسائل سے چیزیں بنا کے چاہے وہ کھانے کی چیزیں ہوں یا استعمال کی، بیچ کے زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ حاصل کرنے کا نام ہے۔
ویلیو ایڈیشن کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جلدی جلدی ایسے تیسے بیچ کے 2 پیسے کمانے کی عادت ترک کر کے دیسی اور خالص مصنوعات بنا کے بیچنے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوکل وسائل مقامی طور پر استعمال ہوں اور روزگار پیدا ہو سکے۔







admin

I am SR Haical. I am a Web Developer,Freelancer,Graphic designer,blogger,you-tuber and consultant travel. Further, i am fond to let the people aware of the latest trend techs to walk through.

1 Comment

  • I really like your blog.. very nice colors & theme. Did you make this website yourself or did you hire someone to do it for you? Plz respond as I’m looking to design my own blog and would like to find out where u got this from. thank you

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.