shahid hussain

Ham Ajeeb or Ghareeb log hain By Shahid Hussain



ہم جتنے عجیب لوگ ہیں اتنے سے کہیں زیادہ ہمارہ علاقہ اور علاقے کا نظام غریب ہے۔ جب ملتے ہیں تو عجیب و غریب کہلائے جا سکتے ہیں۔
اس ملک میں وہ فرد اتنا ہی زیادہ دربدر کی ٹھوکریں کھاتا ہے جتنا وہ قانون کی پاسداری کرتا ہے۔ اور اس بندے کا کام نسبتا سہل اور آسانی سے نکلتا ہے جو قانون کو توڑ کے آگے نکلتا ہے۔ ہسپتال میں جائیں باری کا انتظار کریں آپ انظار میں ہی رہ جائینگے۔ بینک میں جائیں ٹوکن لے لیں۔ لوگ اپنی رقم لے کے ہضم بھی کر چکے ہونگے آپکا نمبر نہیں آئے گا۔


 آپ آپنے کاروبار کو گورنمنٹ میں رجسٹرڈ کریں اور Form Cحاصل کر کے بینک سے قرضہ لینے کی کوشش کریں عمر آپکی گزر جائے گی۔ آپ باقاعدہ تعلیم حاصل کریں، قاعدہ قانون کے مطابق نوکری کے حصول میں لگیں وقت ایسے گزر جائے گا آپکو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ آپکا جونئیر جو کسی زمانے میں آپکے ساتھ کسی ٹیسٹ میں بیٹھا تھا اور فیل ہوچکا تھا آپ کا انٹرویو کر رہا ہوگا۔ گاڑی آپ روڈ پہ لے کے نکلو آرام سے مقررہ سپیڈ اور سائیڈ کا خیال رکھ کے چلو آپ 15 منٹ کا سفر 150 منٹ میں طے کرینگے۔ آپ کسٹم پورے کا پورا ادا کر کے کاروبار کریں آپ کو مقررہ کسٹم ڈیوٹی سے زائد ادا کرنا پڑے گا اور 2 دن کے بجائے آپکا سامان 20 دنوں میں کلیئر کیا جائے گا۔ آپ سماجی یا خیراتی کام کرو گورنمنٹ کے بنائے ہوے قاعدہ قانون پر عمل کرتے ہوے آپ اپنے جیب کے پانچ ہزار روپے غریب تک رمضان میں تو کیا شوال میں بھی نہیں پہنچا پائینگے۔
آپ کسی سرکاری دفتر میں کسی کام کے سلسلے میں فائل لے کے طے شدہ اصول کا انتظار کریں۔ انتظار میں یا تو عمر گزر جائے گی یا فائل ہی کہیں غائب ہوگی۔ کام چور قابل کہلایا جاتا، اور کام کرنے والا گدھا۔ جو کام کرے گا وہ پھنس جائے گا۔


دفتر میں کام کرنے والے سرکاری ملازم کی آدھی عمر عزت بنانے میں گزر جاتی ہے اور آدھی عمر عزت بچانے میں۔ جو سرے سے کام ہی نہیں کرتا وہ بن کچھ کیئے معاشرے کے عزت داروں میں ہوتا ہے۔ اور کام کیئے بنا ہی شان سے ریٹائر ہو جاتا ہے۔
ہم توقع کرتے ہیں ملک بدل جائے۔ لیکن یہ نہیں سوچتے کہ کس طرح بدل جائے اور بدل کے کیا بنے۔ ملک کو بدلنے کے لیئے ہمیں خود کو بدلنا ہوگا۔ خود کو بدلنے کے لئے ہمیں اپنی عادت کو بدلنی ہوگی اور کام کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ ورنہ سی پیک کیا حقوق کیا ہمیں تو دس ممالک کس سلطنت مل جائے توبھی خود انحصار،آذاد، اور بااختیار نہیں بن سکتے۔


By: Shahid Hussain



admin

I am SR Haical. I am a Web Developer,Freelancer,Graphic designer,blogger,you-tuber and consultant travel. Further, i am fond to let the people aware of the latest trend techs to walk through.

8 Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.