land issues

Who owns GB none populated and vacant lands?

Who owns GB none populated and vacant lands?(gb lands issue)

گلگت بلتستان کی تاریخ پہ نظر دوڑانے سے معلوم ھوتا ھے کہ اس خطے کو آزاد کرانے کے لیے کسی دوسری ریاست کا کوئی عمل دخل نا تھا بلک ان پہاڑوں پر بسنے والی قوم نے اپنی مدد آپ کے تحت یہ فریضہ سرانجام دیا.. اور یوں اپنی آنے والی قوم کو دوسروں کے احسان تلے روندے جانے سے بچا لیا. اسلام سے لاگاو کی وجہ سے اس علاقے کے لوگوں نے خود کو پاکستان کے ساتھ ملحق کردیا(gb lands issue)… لیکن قابل افسوس بات یہ ھے کہ خود کو ڈوگروں کے راج سے آزاد کرا کر پاکستان کے ساتھ ملحق کرنے والی اس قوم کو آئینی شہری ہی نہیں مانا جاتا… 70سالوں سے ایسی کوئی حکومت ہی نا آئی جس کو اس یتیم دھرتی کی طرف توجہ دینے کا گماں بھی گزرا ھو. یوں تو اس خطے اور یہاں پر بسنے والوں کے مسائل کی لمبی فہرست ھے مگر آج کل جو مسئلہ خاص کر یہاں کے ہر نوجوان کو پریشان کر رہا ھے وہ خالصہ سرکار کا ھے.. اس سے بیشتر بھی قوم پرستوں نے اس کے خلاف آواز بلند کی مگر ان آوازوں کو سلاخوں کے پیچھے محسور کردیا گیا
.خالصہ سرکارسے مراد وہ بنجر زمینین ہیں جو قابل کاشت نا ھوں یا کسی کے زیر استعمال نا ھو اور نا ہی کسی کے نام پر زمین رجسٹر ھو ایسی زمین کو خالصہ سرکار کہا جات ھے . ہمارے خطے میں ایسی زمین کو سرکاری ملکیت تصور کیا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر عوامی ملکیتی اراضیوں کو بغیر کسی معاوضے کے حکومت اپنی تحویل میں لے کر ضرورت کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ہمارے عوام کے ذہنوں میں شروع دن سے ایک ہی بات ڈالی گئی ہے کہ خالصہ سرکار سے مراد سرکاری زمین ہے جس پر صرف سرکار کو حق ملکیت حاصل ہے یوں عوام کو اکثر اوقات اپنے زیر استعمال زمینوں سے بغیر کسی معاوضے کے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ دیکھا جائے(gb lands issue) تو خالصہ سرکار خالص سکھوں کی اصطلاح ھے جبکہ گلگت بلتستان کے غیور عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت جب ڈوگروں کو وطن بدر کر دیا تو ان کا رائج کردہ خالصہ سرکار بھی انہی کے ساتھ رخصت کر دیا گیا تھا تو پھر حکومت پاکستان کا وقت بے وقت نئے اصلاحات نافذ کر کے یہاں کی عوام کو ظلم و جبر اور استحصال کا نشانہ بنانا سراسر نا انصافی ھے.
خالصہ سرکار کا قصہ تو پاکستان کے آئین میں موجود ہی نہیں تو اسکا اطلاق حکومت پاکستان گلگت بلتستان کے عوام اور یہاں کی زمینوں پر کیوں کر کر سکتی ھے .




گلگت بلتستان میں حقوق کی تحریک بھٹو دور میں شروع ھوئی. بھٹو نے ڈگروں سے زمینیں چھین کر عوام میں تقسیم کی تھی مگر آج ان حقیقی مالکوں سے ان کا یہ حق سلف کیا جارہا ھے. لیکن اب گلگت بلتستان کے ماہر قانون دان و سیاست دان امجد ایڈوکیٹ نے پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے ایک بار پھر بھٹو کے انداز میں خالصہ سرکار کے خلاف آواز بلند کر کے حق ملکیت و حق حاکمیت کا نعرہ بلند کیاھے اور عوام کو باشعور اور با آور کروایا ھے کہ گلگت بلتستان کی زمینوں پر صرف یہاں کی عوام کا حق ھے اور رہے گا. پاکستان کی حکومت گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل کو اپنی ملکیت تسلیم کرتی ھے مگر اس علاقے کہ عوام کو متنازعہ کہتی نہیں تھکتی. لیکن اب یہاں کی عوام جاگ چکی ھے اور اپنے حق ملکیت و حق حاکمیت سے با خوبی آگاہ بھے ہے لہذا اب حکومت پاکستان جب تلک آزاد کشمیر طرز کا سیٹ اپ نہیں دیتی تب تک یہ قوم کسی بھی آئین کو قبول نہیں کرے گی

تحریر: ۔خدیجہ اکبر خان

 

Click edit button to change this code.

admin

I am SR Haical. I am a Web Developer,Freelancer,Graphic designer,blogger,you-tuber and consultant travel. Further, i am fond to let the people aware of the latest trend techs to walk through.

904 Comments